آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا میلہ کل سے پاکستان کی میزبانی میں شروع ہونے جا رہا ہے، اور پاکستان تقریباً 29 سال بعد کسی آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کر رہا ہے۔ چیمپئنز ٹرافی کی اس جنگ میں 8 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جو کرکٹ کے میدانوں میں 9 مارچ تک اس ٹرافی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔ ایونٹ کا آغاز کل کراچی نیشنل اسٹیڈیم میں دفاعی چیمپئن پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ سے ہوگا۔
پاکستان میگا ایونٹ کی میزبانی کے لیے مکمل تیار ہے، اور چیمپئنز ٹرافی کے لیے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم اور کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم کی جدید طرز پر مکمل تکمیل کے بعد حالیہ دنوں میں افتتاح بھی ہو چکا ہے۔ اس سے دو روز قبل، لاہور کے شاہی قلعہ کے حضوری باغ میں ٹرافی کی رونمائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں آئی سی سی کے عہدیدار، پی سی بی کے چیئرمین، 2017 کے چیمپئن پاکستانی کھلاڑی اور حکومتی نمائندوں نے شرکت کی۔
کل (بدھ) کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں میگا ایونٹ کی افتتاحی تقریب منعقد ہوگی، جس میں پاک فضائیہ کے طیارے پہلی بار حصہ لیں گے اور فضا میں فلائی پاسٹ کا منظر ہوگا۔ اس کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے ایئر لائنز کو نوٹم کے ذریعے ہدایات جاری کی ہیں۔
چیمپئنز ٹرافی میں آنے والی غیر ملکی ٹیموں اور قومی کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ لاہور میں فوج اور رینجرز کو طلب کیا گیا ہے اور اسٹیڈیم کے اطراف اسنائپرز بھی تعینات کیے جائیں گے۔
نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا، افغانستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں پاکستان پہنچ چکی ہیں۔ بھارت اپنے میچ ہائبرڈ ماڈل کے تحت دبئی میں کھیلے گا، اور بنگلہ دیش کی ٹیم 20 مارچ کو بھارت کے خلاف میچ کے بعد پاکستان پہنچے گی۔
چیمپئنز ٹرافی کے میچز کراچی، لاہور اور پنڈی میں کھیلے جائیں گے، اور بھارتی ٹیم اپنے تمام میچز دبئی میں کھیلے گی۔ ایک سیمی فائنل بھی دبئی میں ہوگا، اور اگر بھارتی ٹیم فائنل میں پہنچی تو یہ دبئی میں ہوگا، بصورت دیگر فائنل قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔
پاکستان سمیت 6 ٹیموں کی چیمپئنز ٹرافی کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں ہیں، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں دبئی میں اپنی تیاریاں کر رہی ہیں۔